نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «الحج عرفہ» — حج عرفات کا نام ہے: 9 ذوالحجہ کو یہاں وقوف حج کا رکنِ اعظم ہے، اور یہیں حجۃ الوداع کا خطبہ ہوا جس میں انسانی حقوق کا ابدی منشور بیان ہوا۔

زیارت کی حقیقت

  • حج کے علاوہ عرفات کھلا میدان ہے — زیارت تاریخ کو محسوس کرنے کے لیے ہے۔
  • جبلِ رحمت پر شرعی وضاحت: پہاڑی پر چڑھنا، پتھروں کو چومنا یا دھاگے باندھنا — ان میں سے کچھ بھی سنت سے ثابت نہیں بلکہ بدعت ہے۔ وقوف پورے میدان میں صحیح ہے۔
  • عرفہ کے دن کا روزہ (غیر حاجی کے لیے) دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے — یہ اس دن کی اصل عبادت ہے۔